Transliteration: (Wa izaa ra aakal lazeena kafarooo iny-yattakhizoonaka illa huzuwan; ahaazal lazee yazkuru aalihatakum wa hum bi zikrir Rahmaani hum kaafiroon)
{وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا:اور جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں ۔} گزشتہ آیت میں سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصال کی باتیں کرنے والوں کوجواب دیا گیا، اب اس آیت میں ان لوگوں کو جواب دیا جا رہا ہے جو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ مَسخرہ پن کیا کرتے تھے۔ شانِ نزول:یہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازِل ہوئی۔ ایک مرتبہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے جارہے تھے تو ابو جہل آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھ کر ہنسا اور اپنے ساتھ موجود لوگوں سے کہنے لگا کہ: یہ بنی عبد ِمناف کے نبی ہیں ،پھر وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے : کیا یہ وہ آدمی ہے جو تمہارے خداؤں کو برا کہتا ہے۔‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،یہ آپ پر اپنے خداؤں کو برا کہنے کا عیب لگاتے ہیں حالانکہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ رحمٰن ہی کی یاد سے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم رحمٰن کو جانتے ہی نہیں ۔ اس جہالت اور گمراہی میں مبتلا ہونے کے باوجود آپ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ہنسی کے قابل توخود ان کا اپنا حال ہے۔(خازن ، الانبیاء ، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۲۷۷، مدارک ، الانبیاء ، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۷۱۶، روح البیان، الانبیاء ، تحت الآیۃ: ۳۶، ۵ / ۴۷۹-۴۸۰، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 36 تفسیر