Transliteration: (Qaala bar Rabbukum Rabbus samaawaati wal ardil lazee fatarahunna wa ana 'alaa zaalikum minash shaahideen)
{قَالُـوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ:بولے: کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کوچونکہ اپنے طریقے کا گمراہی ہونا بہت ہی بعید معلوم ہوتا تھا اور وہ اس کا انکار کرنا بہت بڑی بات جانتے تھے، اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ کہا کہ کیا آپ یہ بات واقعی طور پر ہمیں بتا رہے ہیں یا یونہی ہنسی مذاق کے طور پر فرما رہے ہیں؟ اس کے جواب میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کی رَبُوبِیَّت کا بیان کرکے ظاہر فرما دیا کہ آپ کھیل کے طور پرکلام نہیں کررہے بلکہ حق کا اظہار فرما رہے ہیں چنانچہ آپ نے فرمایا: تمہاری عبادت کے مستحق یہ بناوٹی مجسمے نہیں بلکہ تمہاری عبادت کا مستحق وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں کسی سابقہ مثال کے بغیرپیدا کیا، تو پھر تم ان چیزوں کی عبادت کیسے کرتے ہو جو مخلوقات میں داخل ہیں اور میں نے تم سے جو بات کہی کہ تمہارا رب صرف وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، میں اسے دلیل کے ساتھ ثابت کر سکتا ہوں ۔(مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۵۵-۵۶، ص۷۱۹، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۵۵-۵۶، ۵ / ۴۹۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 56 تفسیر