قرآن - 8:34 سورہ الأنفال ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

34
وَمَا لَهُمۡ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمۡ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَمَا كَانُوٓاْ أَوۡلِيَآءَهُۥٓۚ إِنۡ أَوۡلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ

Transliteration: (Wa maa lahum allaa yu'az zibahumul laahu wa hum yasuddoona 'anil Masjidil-Haraami wa maa kaanooo awliyaaa'ah; in awliyaaa' uhooo illal muttaqoona wa laakinna aksarahum laa ya'lamoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗؕ-اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(34) || اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجدِحرام سے روک رہے ہیں اور وہ اس کے اہل نہیں اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے حالانکہ یہ مسجد ِحرام سے روک رہے ہیں اور یہ اِس کے اہل ہی نہیں ،اس کے اہل تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر جانتے نہیں ۔ || اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے حالانکہ یہ مسجد ِحرام سے روک رہے ہیں اور یہ اِس کے اہل ہی نہیں ،اس کے اہل تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر جانتے نہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنفال آیت 34 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ:اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جب تک میرا حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان میں تشریف فرما ہے اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہ دے گا اور اس آیت میں فرمایا کہ انہیں عذاب دے گا۔ تو اس آیت کا معنی یہ ہوا جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کے بیچ سے چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت میں عذاب سے مراد (قتل اور قید ہونے کا)وہ عذاب ہے جو بدر کے دن انہیں پہنچا۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۴، ۲ / ۱۹۴)

            ایک قول یہ ہے کہ ا س سے مراد وہ عذاب ہے جو فتحِ مکہ کے دن انہیں پہنچا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں اس سے آخرت کا عذاب مراد ہے اور جس عذاب کی ان سے نفی کی گئی ہے اس سے دنیاوی عذاب مراد ہے۔ ان کفار کو عذاب دئیے جانے کا سبب یہ ہے کہ یہ مسجدِ حرام سے روک رہے ہیں اور مؤمنین کو طوافِ کعبہ کے لئے نہیں آنے دیتے جیسا کہ واقعۂ حُدَیْبِیَہ کے سال  رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ کےاصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو روکا۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵ / ۴۸۰)

{وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ:اور یہ اِس  کے اہل ہی نہیں۔} کفار یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم خانہ کعبہ اور حرم شریف کے مُتَوَلّی ہیں تو ہم جسے چاہیں اس میں داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں روک دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں ارشاد فرمایا کہ یہ مسجدِ حرام کے اہل نہیں اور کعبہ کے اُمو ر میں تَصَرُّف و انتظام کا کوئی اختیار نہیں رکھتے کیونکہ یہ مشرک ہیں ، مسجدِ حرام کا متولی ہونے کے  اہل تو پرہیزگار ہی ہیں۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now