قرآن - 8:35 سورہ الأنفال ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

35
وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمۡ عِندَ ٱلۡبَيۡتِ إِلَّا مُكَآءٗ وَتَصۡدِيَةٗۚ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ

Transliteration: (Wa maa kaana Salaatuhum 'indal Baiti illa mukaaa anw-wa tasdiyah; fazooqul 'azaaba bimaa kuntum takfuroon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةًؕ-فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ(35) || اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اوربَیْتُ اللہ کے پاس ان کی نمازصرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا ہی تھاتو اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔ || اوربَیْتُ اللہ کے پاس ان کی نمازصرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا ہی تھاتو اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنفال آیت 35 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً:اوربیتُ اللہ کے پاس ان کی نمازصرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا ہی تھا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ کفار ِقریش ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اور ان کا یہ فعل یا تو اس باطل عقیدے کی وجہ سے تھا کہ سیٹی اور تالی بجانا عبادت ہے اور یا اس شرارت کی وجہ سے کہ اُن کے اِس شور سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نماز میں پریشانی ہو۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۵، ۵ / ۴۸۱)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now