Transliteration: (Wa maa kaana Salaatuhum 'indal Baiti illa mukaaa anw-wa tasdiyah; fazooqul 'azaaba bimaa kuntum takfuroon)
{وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً:اوربیتُ اللہ کے پاس ان کی نمازصرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا ہی تھا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ کفار ِقریش ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اور ان کا یہ فعل یا تو اس باطل عقیدے کی وجہ سے تھا کہ سیٹی اور تالی بجانا عبادت ہے اور یا اس شرارت کی وجہ سے کہ اُن کے اِس شور سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نماز میں پریشانی ہو۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۵، ۵ / ۴۸۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنفال آیت 35 تفسیر