قرآن - 8:57 سورہ الأنفال ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

57
فَإِمَّا تَثۡقَفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡحَرۡبِ فَشَرِّدۡ بِهِم مَّنۡ خَلۡفَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ

Transliteration: (Fa immaa tasqafannahum fil harbi fasharrid bihim man khalfahum la'allahum yazzakkaroon)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(57) || تو اگر تم کہیں انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسا قتل کرو جس سے ان کے پس ماندوں کو بھگاؤ اس امید پر کہ شاید انہیں عبرت ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو اگر تم انہیں لڑائی میں پا ؤ تو انہیں ایسی مار مارو جس سے ان کے پیچھے والے (بھی) بھاگ جائیں ، اس امید پر (مارو) کہ شاید انہیں عبرت ہو۔ || تو اگر تم انہیں لڑائی میں پا ؤ تو انہیں ایسی مار مارو جس سے ان کے پیچھے والے (بھی) بھاگ جائیں ، اس امید پر (مارو) کہ شاید انہیں عبرت ہو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنفال آیت 57 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ:تو اگر تم انہیں لڑائی میں پاؤ۔} یعنی وہ لوگ جنہوں نے عہد شکنی کی تم اگر انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی مار مارو جس سے ان کے پیچھے والے بھی بھاگ جائیں اور ان کی ہمتیں توڑ دو اور ان کی جماعتیں مُنْتَشِر کردو اور اس امید پرمارو کہ شاید انہیں عبرت ہو۔

سزاؤں کی حکمت:

            اس سے معلوم ہوا کہ جنگ میں ہر وہ جائز طریقہ استعمال کرنا درست ہے جو کفار کی ہمت توڑدے۔ سزاؤں کے پیچھے اکثر و بیشتر یہی عوامِل کار فرما ہوتے ہیں کہ دوسروں کو عبرت ہو اور وہ ایسی حرکتیں نہ کریں۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now