قرآن - 8:59 سورہ الأنفال ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

59
وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ سَبَقُوٓاْۚ إِنَّهُمۡ لَا يُعۡجِزُونَ

Transliteration: (Wa laa yahsabannal lazeena kafaroo sabaqooo; innahum laa yu'jizoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْاؕ-اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ(59) || اور ہرگز کا فر اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ وہ ہاتھ سے نکل گئے بیشک وہ عاجز نہیں کرتے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہرگز کا فر یہ خیال نہ کریں کہ وہ ہاتھ سے نکل گئے ہیں ، بیشک وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔ || اور ہرگز کا فر یہ خیال نہ کریں کہ وہ ہاتھ سے نکل گئے ہیں ، بیشک وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنفال آیت 59 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا:اور ہرگز کافر یہ خیال نہ کریں۔} یعنی جو کفار جنگِ بدر سے بھاگ کر قتل ا ور قید سے بچ گئے اور مسلمانوں کے  ہاتھ سے نکل گئے وہ اپنے آپ کو ہماری قدرت اور پکڑ سے باہر نہ سمجھیں ہم ہر طرح پکڑنے پر قادر ہیں۔( خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۵۹، ۲ / ۲۰۵)

کوئی خود کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے باہر نہ جانے:

            اس آیت میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے جو بیماری، مصیبت اور کوئی آفت آنے کی صورت میں تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بڑی توبہ کرتے اور ساری زندگی گناہوں سے دور رہنے اور اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہنے کا عہد کرتے ہیں لیکن جب تندرست ہو جاتے اور مصیبت و آفت سے باہر نکل آتے ہیں تو ان کے دوبارہ وہی پرانے لچھن شروع ہوجاتے ہیں۔ انہیں یہ بات اچھی طرح یاد رکھ لینی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور پکڑ سے کسی صورت باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں ہر حال میں اور ہر طرح سے پکڑنے پر قادر ہے۔ مسلمان ایسا اعتقاد تو یقینا نہیں رکھتا لیکن عمل کے معاملے میں بہرحال حالت بہتر نہیں۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now