Transliteration: (Qul seeroo fil ardi fanzuroo kaifa bada al khalqa thumm Allahu yunshi''un nash atal Aakhirah; innal laaha 'alaa kulli shai'in Qadeer)
{قُلْ سِیْرُوْا فِی
الْاَرْضِ: تم فرماؤ :زمین
میں چل کر دیکھو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یا اے حضرت
ابراہیم! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ کافروں سے فرما دیں :تم زمین میں چل کر سابقہ قوموں کے شہروں اور
آثار کو دیکھوکہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پہلے
کیسے بناتا،پھر موت دیتا ہے تاکہ تم مشاہدہ کر کے اللہ تعالیٰ کی فطرت کے عجائبات کی معرفت حاصل کر
سکو نیزجب یہ معلوم ہے کہ پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا تو معلوم ہو گیا کہ اس خالق کا مخلوق کو موت
دینے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی دشوار نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے تو وہ پہلی بار پیدا کرنے
اور دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔( مدارک، العنکبوت،
تحت الآیۃ: ۲۰،
ص۸۸۹، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۰، ۳ / ۴۴۸، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کیلئے ا س کی قدرت کے
نظاروں جیسے دریاؤں ، پہاڑوں اور زمین کے دیگر عجائبات کی سیر کرنا بھی عبادت ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ العنكبوت آیت 20 تفسیر