قرآن - 29:43 سورہ العنكبوت ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

43
وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِۖ وَمَا يَعۡقِلُهَآ إِلَّا ٱلۡعَٰلِمُونَ

Transliteration: (Wa tilkal amsaalu nadribuhaa linnaasi wa maa ya'qiluhaaa illal 'aalimoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(43) || اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور اُنہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور یہ مثالیں ہیں جنہیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور انہیں علماء ہی سمجھتے ہیں ۔ || اور یہ مثالیں ہیں جنہیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور انہیں علماء ہی سمجھتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ العنكبوت آیت 43 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ: اور یہ مثالیں  ہیں  جنہیں  ہم لوگوں  کے لیے بیان فرماتے ہیں ۔} کفارِ قریش نے طنز کے طور پر کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ مکھی اور مکڑی کی مثالیں  بیان فرماتا ہے اور اس پر انہوں  نے مذاق اڑایا تھا ۔ اس آیت میں ان کا رد کر دیا گیا کہ وہ جاہل ہیں  جو مثال بیان کئے جانے کی حکمت کو نہیں  جانتے ،کیونکہ مثال سے مقصود تفہیم ہوتی ہے اور جیسی چیز ہو اس کی شان ظاہر کرنے کے لئے ویسی ہی مثال بیان کرنا حکمت کے تقاضے کے عین مطابق ہے اور یہاں  چونکہ بت پرستوں  کے باطل اور کمزور دین کی کمزوری اوربُطلان بیان کرنا مقصود ہے لہٰذا اس کے اِظہار کے لئے یہ مثال انتہائی نفع مندہے اور ان مثالوں  کی خوبی، نفاست،عمدگی ، ان کے نفع اور فوائد اور ان کی حکمت کو وہ لوگ سمجھتے ہیں  جنہیں  اللہ تعالیٰ نے عقل اور علم عطافرمایا ہے جیسا کہ یہاں  بیان کی گئی مکڑی کی مثال نے مشرک اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے والے کا حال خوب اچھی طرح ظاہر کر دیا اور فرق واضح فرما دیا ۔(مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۸۹۳، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now