قرآن - 29:50 سورہ العنكبوت ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

50
وَقَالُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَٰتٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّمَا ٱلۡأٓيَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ

Transliteration: (Wa qaaloo law laaa unzila 'alaihi aayaatum mir Rabbihee qul innamal aayaatu 'indal laahi wa innamaaa ana nazeerum mubeen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(50) || اور بولے کیوں نہ اُتریں کچھ نشانیاں اُن پر ان کے رب کی طرف سے تم فرماؤ نشانیاں تو الله ہی کے پاس ہیں اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اورکفار نے کہا:اس پر اس کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتریں ؟تم فرماؤ :نشانیاں تو الله ہی کے پاس ہیں اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔ || اورکفار نے کہا:اس پر اس کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتریں ؟تم فرماؤ :نشانیاں تو الله ہی کے پاس ہیں اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ العنكبوت آیت 50 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ قَالُوْا: اور کفار نے کہا۔} یہاں  سے کفارِ مکہ کا ایک اور اعتراض ذکر کیا جا رہاہے ،چنانچہ کفارِ مکہ نے کہا کہ اس نبی پر ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اونٹنی،حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عصا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دستر خوان کی طرح نشانیاں  کیوں  نہیں  اُتریں ؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں سے ارشاد فرما دیں : نشانیاں  تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں  اور وہ حکمت کے مطابق جو نشانی چاہتا ہے نازل فرماتا ہے اور میری ذمہ داری یہ ہے کہ میں  نافرمانی کرنے والوں  کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا صاف ڈر سنا دوں  اور میں  اسی کا پابند ہوں ۔ (خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳ / ۴۵۴، مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۸۹۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now