{اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ: اور کیا انہیں یہ بات کافی نہیں ۔} اس آیت میں کفارِ مکہ کے اعتراض کا جواب دیاگیاہے اور ا س کا معنی یہ ہے کہ قرآنِ کریم معجزہ ہے ، گزشتہ اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات سے زیا دہ کامل ہے اور حق کے طلبگار کو تمام نشانیوں سے بے نیاز کرنے والا ہے کیونکہ جب تک زمانہ ہے قرآنِ کریم باقی اور ثابت رہے گا اور دوسرے معجزات کی طرح ختم نہ ہو گا۔( خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۴۵۴)یعنی دیگر انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات قصہ بن کر رہ گئے ہیں مگر یہ قرآن ایسا جیتا جاگتا معجزہ ہے جو ہمیشہ دیکھا جاتا رہے گا،اس پر ایمان نہ لانا انتہائی بد نصیبی ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ العنكبوت آیت 51 تفسیر