Transliteration: (Wa la'in sa altahum man nazzala minas samaaa'i maaa'an fa ahyaa bihil arda min ba'di mawtihaa la yaqoolunnal laah; qulil hamdu lillah; bal aksaruhum laa ya'qiloon (section 6))
{وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ: اور اگرتم ان سے پوچھو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ عرب کے مشرکوں سے یہ بات پوچھیں کہ کس نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے خشک زمین سے کھیتی، نباتات اور درخت وغیرہ اُگا کر اسے سرسبز و شاداب کیا؟ تو ا س کے جواب میں وہ ضرور کہیں گے : اللہ تعالیٰ نے پانی نازل فرمایا اور اسی نے زمین کو سرسبز کیا۔یعنی وہ لوگ اس کا اعتراف اور اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ نے ہی کیا ہے۔اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرمائیں کہ سب تعریفیں ا س اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے حق کو ایسابنایا کہ باطل پرست اس کا انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے ، بلکہ ان کافروں میں اکثر بے عقل ہیں کہ اس اقرار اور اعتراف کے باوجود اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کے منکر ہیں ۔( روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶۳، ۶ / ۴۸۹، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶۳، ۳ / ۴۵۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ العنكبوت آیت 63 تفسیر