Transliteration: (Awalam yaraw annaa ja'alnaa haraman aaminanw wa yutakhattafun naasu min haw lihim; afabil baatili yu'minoona wa bini'matil laahi yakfuroon)
{اَوَ لَمْ یَرَوْا: اور کیا انہوں نے نہ دیکھا۔} ارشاد فرمایا کہ کیا مکہ والوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے ان کے شہر مکہ مکرمہ کی حرمت والی زمین،ا ن کے لئے امن و امان والی بنائی کہ اس سرزمین میں رہنے والے امن و امان سے رہتے ہیں جبکہ اُن کے آس پاس کے لوگ قتل بھی کئے جاتے اور گرفتاربھی ہوجاتے ہیں ، اِس امن و سکون کی نعمت پر توا نہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ بتوں پر یقین رکھتے ہیں اورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اور اسلام سے کفر کر کے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ۔( مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶۷، ص۸۹۹)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ العنكبوت آیت 67 تفسیر