Transliteration: (Am kuntum shuhadaaa'a iz hadara Ya'qoobal mawtu iz qaala libaneehi maa ta'budoona mim ba'dee qaaloo na'budu ilaahaka wa ilaaha aabaaa'ika Ibraaheema wa Ismaa'eela wa Ishaaqa Ilaahanw waahidanw wa nahnu lahoo muslimoon)
{اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ: کیا تم موجود تھے؟} یہ آیت یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی، انہوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی وفات کے روز اپنی اولاد کو یہودی رہنے کی وصیت کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے اس بہتان کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی ۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۳۳، ۱ / ۹۳)
آیت کے معنی یہ ہیں کہ اے بنی اسرائیل !کیا تمہارے پہلے لوگ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آخری وقت ان کے پاس موجود تھے جس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلا کر ان سے اسلام و توحید کا اقرا رلیا تھا اور یہ اقرار لیا تھا جو آیت میں مذکور ہے۔
{وَ اِلٰهَ اٰبَآىٕكَ: اور تمہارے باپ دادا کے معبود۔} حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آباء یعنی باپوں میں داخل کیا حالانکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حقیقی والد نہ تھے۔ یہ اس لیے ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے چچا ہیں اور چچا بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے ذکر فرمانا دووجہ سے ہے، ایک تو یہ کہ آپ حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے چودہ سال بڑے ہیں دوسرا اس لیے کہ آپ سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آباء میں سے ہیں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 133 تفسیر