Transliteration: (Tilka ummatun qad khalat lahaa maa kasabat wa lakum maa kasabtum wa laa tus'aloona 'ammaa kaanoo ya'maloon)
{تِلْكَ اُمَّةٌ: وہ ایک امت ہے۔} جب یہودی دلائل میں عاجز ہو جاتے تو آخر کار کہہ دیتے تھے کہ اگر ہمارے عقائد و اعمال غلط بھی ہوئے تو ہمارے باپ داداؤں کے اعمال ہمارے کام آجائیں گے اور ان سے ہماری نجات ہو جائے گی، ان کی تردید میں یہ آیت آئی کہ وہ سب گزرچکے ۔ان کے اعمال ان کے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ تمہیں ان کے اعمال کام نہ آئیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں اپنے اعمال کام آئیں گے اور اگر عقیدہ خراب ہو تو کسی کو دوسرے کے عمل سے فائدہ نہ ہوگا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 134 تفسیر