Transliteration: (Wa minhum mai yaqoolu rabbanaaa aatina fid dunyaa hasanatanw wa fil aakhirati hasanatanw wa qinaa azaaban Naar)
{وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ: اور کوئی یوں کہتا ہے۔}اس آیت میں مذکور مسلمان کی دعا بہت جامع دعا ہے اورتھوڑے الفاظ میں دین و دنیا کی تمام بھلائیاں اس میں مانگی گئی ہیں۔حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے:’’اَللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ‘‘(بخاری، کتاب الدعوات، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ۔۔۔ الخ، ۴ / ۲۱۴، الحدیث: ۶۳۸۹)
دنیا کی بھلائی میں ہر اچھی اور مفیدشے داخل ہے خواہ وہ کفایت کرنے والا رزق ہو یا اچھا گھر یا اچھی بیوی یا اچھی سواری یا اچھا پڑوس وغیرہا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 201 تفسیر