Transliteration: (Wazkurul laaha feee ayyaamin ma'doodaatin; faman ta'ajjala fee yawmaini falaaa ismaa 'alaihi wa man ta akhara falaaa isma 'alayhi; limanit-taqaa; wattaqul laaha wa'lamooo annakum ilaihi tuhsharoon)
{وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ:اور گنتی کے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو۔} گنتی کے دنوں سے مراد اَیّام تَشریق ہیں اور ذکراللہ سے نمازوں کے بعد اور جَمرات کی رمی کے وقت تکبیر کہنا مراد ہے۔ (صاوی ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۰۳، ۱ / ۱۷۱)
اورمراد یہ ہے کہ منیٰ میں قیام کے دوران اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہو۔
{فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ: تو جو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے۔} دس، گیارہ ، بارہ اور تیرہ ذوالحج، ان چار دنوں میں منیٰ میں جمرات پر رمی کی جاتی ہے۔ دس تاریخ کو صرف ایک جمرہ کی اور بقیہ تاریخوں میں تینوں جمرات کی۔تیرہ تاریخ کو بھی رمی تو ہے لیکن اگر کوئی شخص بارہ تاریخ کی رمی کرکے منیٰ سے واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اگرچہ تیرہ کو رمی کرکے واپس آنا افضل ہے۔(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۰۳، ص۹۸)
یہاں دو دنوں میں رمی کرکے چلے جانے سے مراد دس ذوالحجہ کے بعد دودن ہیں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 203 تفسیر