{ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ:اے لوگو! ۔} سورۂ بقرہ کے شروع میں بتایا گیا کہ یہ کتاب متقین کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی، پھر متقین کے اوصاف ذکر فرمائے ، اس کے بعد اس سے منحرف ہونے والے فرقوں کا اور ان کے احوال کا ذکر فرمایا تاکہ سعادت مند انسان ہدایت و تقویٰ کی طرف راغب ہو اور نافرمانی و بغاوت سے بچے، اب تقویٰ حاصل کرنے کا طریقہ بتایا جارہا ہے اور وہ طریقہ عبادت اور اطاعتِ الٰہی ہے۔ ’’ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ‘‘ کے ذریعے تمام انسانوں سے خطاب ہے اور اس بات کااشارہ ہے کہ انسانی شرافت اسی میں ہے کہ آدمی تقویٰ حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کا بندہ بنے ۔
عبادت کی تعریف:
عبادت اُس انتہائی تعظیم کا نام ہے جو بندہ اپنی عبدیت یعنی بندہ ہونے اور معبودکی اُلوہیت یعنی معبود ہونے کے اعتقاد اور اعتراف کے ساتھ بجالائے۔یہاں عبادت توحید اور اس کے علاوہ اپنی تمام قسموں کو شامل ہے۔کافروں کو عبادت کا حکم اس معنیٰ میں ہے کہ وہ سب سے بنیادی عبادت یعنی ایمان لائیں اور اس کے بعد دیگر اعمال بجالائیں۔
{لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ: تاکہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔} اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کا فائدہ عابد ہی کو ملتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کو عبادت یا اور کسی چیز سے نفع حاصل ہو ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 21 تفسیر