Transliteration: (Allazee ja'ala lakumul arda firaashanw wassamaaa'a binaaa 'anw wa anzala minassamaaa'i maaa'an fa akhraja bihee minas samaraati rizqal lakum falaa taj'aloo lillaahi andaadanw wa antum ta'lamoon)
{اَلَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً:جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا۔}اس آیت اور اس سے اوپر والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نعمتوں کو بیان فرمایا ہے:
(1)…مخلوق کو عدم سے وجود میں لانا۔
(2)…آسمان و زمین کو پیدا کرنا۔
(3)…آسمان و زمین سے مخلوق کے رزق کا مہیا کرنا۔
(4)…آسمان سے بارش اتارنااور زمین سے نباتات اُگانا۔
جب آدمی کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک پل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے تو اُس مالک ِ حقیقی کو چھوڑ کر کسی اورکا عبادت گزاربننا کس قدر ناشکری ہے؟ یونہی ایسے کریم خدا کی یاد سے غفلت بھی کتنی بڑی ناشکری ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 22 تفسیر