Transliteration: (Fa in tallaqahaa falaa tahillu lahoo mim ba'du hattaa tankiha zawjan ghairah; fa in tallaqahaa falaa junaaha 'alaihimaaa ai yataraaja'aaa in zannaaa ai yuqeemaa hudoodal laa; wa tilka hudoodul laahi yubaiyinuhaa liqawminy ya'lamoon)
{فَاِنْ طَلَّقَهَا: پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دیدے۔ }تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر حرمت ِ غلیظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے، اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے اورنہ دوبارہ نکاح جب تک یہ نہ ہو کہ عورت عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور وہ دوسرا شوہر صحبت کے بعد طلاق دے یا وہ فوت ہوجائے اورعورت پھر اس دوسرے شوہر کی عدت گزارے۔
تین طلاقیں تین مہینوں میں دی جائیں یا ایک مہینے میں یا ایک دن میں یا ایک نشست میں یا ایک جملے میں بہر صورت تینوں واقع ہوجاتی ہیں اور عورت مرد پر حرام ہوجاتی ہے۔ تین طلاقوں کے بعد بغیر شرعی طریقے کے مردو عورت کاہم بستری وغیرہ کرنا صریح حرام و ناجائز ہے اور ایسی صلح کی کوشش کروانے والے بھی گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔ تفصیل کیلئے علماء اہلسنّت کی کتابوں کی طرف رجوع کریں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 230 تفسیر