Transliteration: (Wa izaa tallaqtumun nisaaa'a fabalaghna ajalahunna falaa ta'duloo hunna ai yankihna azwaaja hunna izaa taraadaw bainahum bilma' roof; zaalika yoo'azu bihee man kaana minkum yu'minu billaahi wal yawmil aakhir; zaalikum azkaa lakum wa at-har; wallaahu ya'lamu wa antum laa ta'lamoon)
{وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو۔} حضرت مَعْقِل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہن کا نکاح عاصم بن عدی کے ساتھ ہوا تھا انہوں نے ایک طلاق دیدی لیکن عدت گزرنے کے بعد پھر عاصم نے نکاح کی درخواست کی تو حضرت معقل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مانع ہوئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(بخاری ، کتاب النکاح، باب من قال لا نکاح الّا بولیّ، ۳ / ۴۴۲، الحدیث: ۵۱۳۰)
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی عورت کی عدت گزر جائے اور عدت کے بعد وہ عورت کسی سے نکاح کا ارادہ کرے خواہ وہ کوئی نیا آدمی ہو یا وہی ہو جس نے طلاق دی تھی تو اگر وہ مردو عورت باہم رضامند ہیں تو عورت کے سرپرستوں کو بلاوجہ منع کرنے کا حق نہیں۔ اس حکم کی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ ہر اس آدمی کو نصیحت کی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ مزید فرمایا کہ اس حکم پر عمل کرنا تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی و طہارت کا باعث ہے کیونکہ بعض اوقات سابقہ تعلقات کی وجہ سے عورتیں غلط قدم بھی اٹھالیتی ہیں جو بعد میں سب کیلئے پریشانی کا باعث بنتا ہے ،اس لئے عورتوں کو مزید نکاح سے بلاوجہ منع نہ کرو۔ تمہاری حقیقی حکمت و مصلحت کو تم نہیں جانتے ،اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ اگر عورت غیر کُفو میں بغیر اجازتِ ولی نکاح کرے تو وہاں اولیاء کا حق ہوتا ہے۔ تفصیل کیلئے بہارِ شریعت حصہ 7میں ’’کفو کا بیان ‘‘ مطالعہ کریں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 232 تفسیر