{فَاِنْ خِفْتُمْ:پھر اگرتم خوف کی حالت میں ہو۔} یہاں دشمن یا درندے وغیرہ کے خوف کی حالت میں نماز کا حکم اور طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر خوف کی ایسی صورت ہو کہ ایک جگہ ٹھہرنا ناممکن ہو جائے تو پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لو اور اس نماز کو دہرانا بھی نہ پڑے گا اورجدھر جارہے ہوں ادھر ہی منہ کرکے نماز پڑھ لیں ،قبلہ کی طرف منہ کرنے کی شرط نہیں ہے اور جب حالت ِ امن ہو تو پھر معمول کے مطابق نماز پڑھی جائے البتہ اگر خوف کی ایسی حالت ہو کہ اس میں ٹھہرنا ،ممکن ہو جیسے جنگ کے موقع پر دشمنوں کے حملے کا ڈر بھی ہے لیکن کسی جگہ ٹھہرے ہوئے بھی ہیں تو اس کاباجماعت نماز پڑھنے کا طریقہ سورہ ٔنساء آیت 102میں مذکور ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 239 تفسیر