Transliteration: (Wallazeena yutawaf fawna minkum wa yazaroona azwaajanw wasiyyatal li azwaajihim mataa'an ilal hawlighaira ikhraaj; fa in kharajna falaa junaaha 'alaikum fee maa fa'alna feee anfusihinna min ma'roof; wallaahu Azeezun Hakeem)
{وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ: اور جو تم میں مرجائیں۔} ابتدائے اسلام میں بیوہ کی عدت ایک سال تھی اور اُس ایک سال میں وہ شوہر کے یہاں رہ کر نان و نفقہ پانے کی مستحق ہوتی تھی ،پھر ایک سال کی عدت توسورۂ بقرہ کی آیت 234 ’’یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا‘‘ سے منسوخ ہوئی جس میں بیوہ کی عدت چار ماہ، دس دن مقرر فرمائی گئی اور سال بھر کا نفقہ سورۂ نساء کی آیت نمبر12یعنی آیت ِمیراث سے منسوخ ہوا جس میں عورت کو شوہر کی وراثت میں حصہ دار مقرر کردیا گیا لہٰذا اب اِس وصیت کا حکم باقی نہ رہا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 240 تفسیر