Transliteration: (Laisa 'alaika hudaahum wa laakinnal laaha yahdee mai yashaaa'; wa maa tunfiqoo min khairin fali anfusikum; wa maa tunfiqoona illab tighaaa'a wajhil laah; wa maa tunfiqoo min khairiny yuwaffa ilaikum wa antum laa tuzlamoon)
{لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ: لوگوں کوہدایت دے دینا تم پر لازم نہیں۔} حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بشیر و نذیر اور داعی یعنی دعوت دینے والے بنا کر بھیجے گئے ہیں ، آپ کا فرض دعوت دینے سے پورا ہوجاتا ہے اور اس سے زیادہ جدوجہد آپ پر لازم نہیں۔ یہ مضمون قرآن پاک میں بکثرت بیان کیا گیا ہے۔
{وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ: اور تم جو اچھی چیزخرچ کرو۔} ارشاد فرمایا گیا کہ تم جو خرچ کرتے ہو اس کا فائدہ تمہیں ہی ہوگا کہ دنیا میں مال میں برکت اور آخرت میں ثواب کا ذخیرہ ہوگا۔ لہٰذا جب اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے تو جس پر خرچ کرتے ہو اس پر احسان نہ جتاؤ بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے خرچ کرو اور ایک ذرہ برابر دنیوی نفع حاصل کرنے کی تمنا نہ کرو، اخلاص کے ساتھ کئے گئے عمل کا ایک ذرہ بھی ضائع نہیں ہوگا بلکہ بارگاہِ الٰہی سے برابر کا صلہ تو ضرور دیا جائےگا اور فضلِ الٰہی سے وہ صلہ سات سو گنا سے لے کر کروڑوں گنا تک ہوسکتا ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 272 تفسیر