Transliteration: (Allazeena yunfiqoona amwaalahum billaili wan nahaari sirranw wa 'alaaniyatan falahum ajruhum 'inda Rabbihim wa laa khawfun 'alaihim wa laa hum yahzanoon)
{اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ: وہ لوگ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں۔} یہاں ان لوگوں کا بیان ہے جو راہِ خدا میں خرچ کرنے کا نہایت شوق رکھتے ہیں اور ہر حال میں یعنی دن رات، خفیہ اعلانیہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے راہِ خدا میں چالیس ہزار دینار خرچ کئے تھے۔ دس ہزار رات میں اور دس ہزار دن میں اور دس ہزار پوشیدہ اور دس ہزار ظاہر۔ (صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۴، ۱ / ۲۳۲)
ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے حق میں نازل ہوئی، جب آپ کے پاس فقط چار درہم تھے اور کچھ نہ تھا، اور آپ نے ان چاروں کو خیرات کردیا، ایک رات میں ، ایک دن میں ، ایک کو پوشیدہ اور ایک کو ظاہر۔(ابن عساکر، حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی، ۴۲ / ۳۵۸)
آیت ِکریمہ میں رات کے خرچ کو دن کے خرچ سے اورخفیہ خرچ کواعلانیہ خرچ سے پہلے بیان فرمایا ،اس میں اشارہ ہے کہ چھپا کر دینا ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے۔ ان سب خرچ کرنے والوں کیلئے بارگاہِ الٰہی سے اجرو ثواب اور قیامت کے دن غم و خوف سے نجات کی بشارت ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 274 تفسیر