Transliteration: (Yamhaqul laahur ribaa wa yurbis sadaqaat; wallaahu laa yuhibbu kulla kaffaarin aseem)
{یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا: اللہ سود کو مٹاتا ہے۔} اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور سود خورکو برکت سے محروم کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سود خورکا نہ صدقہ قبول کرے، نہ حج، نہ جہاد، نہ رشتے داروں سے حسنِ سلوک۔ (تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۶، ۲ / ۲۷۴، الجزء الثالث)
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے جبکہ صدقہ و خیرات کو زیادہ کرتا ہے، دنیا میں اس میں برکت پیدا فرماتا ہے اور آخرت میں اس کا اجرو ثواب بڑھاتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ(۳۹)‘‘(روم: ۳۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جو تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے زکوٰۃ دیتے ہو تو وہی لوگ (اپنے مال)بڑھانے والے ہیں۔
اور صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کھجور برابر حلال کمائی سے صدقہ کرے اور اللہ حلال ہی کو قبول فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صدقے کو قبول فرماتا ہے پھر اسے اُس کے مالک کے لئے پرورش کرتا ہے جیسے تم میں کوئی اپنے بچھڑے کی تربیّت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیّب، ۱ / ۴۷۶، الحدیث: ۱۴۱۰)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 276 تفسیر