Transliteration: (Aamanar-Rasoolu bimaaa unzila ilaihi mir-Rabbihee walmu'minoon; kullun aamana billaahi wa Malaaa'ikathihee wa Kutubhihee wa Rusulihee laa nufarriqu baina ahadim-mir-Rusulih wa qaaloo sami'naa wa ata'naa ghufraanaka Rabbanaa wa ilaikal-maseer)
{كُلٌّ اٰمَنَ: سب ایمان لائے۔} اصول و ضروریاتِ ایمان کے چار مرتبے ہیں :
(1)… اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی تمام صفات پر ایمان لانا۔
(2)…فرشتوں پر ایمان لانا اور وہ یہ ہے کہ یقین کرے اور مانے کہ وہ موجود ہیں ، معصوم ہیں ،پاک ہیں ، اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسولوں کے درمیان احکام و پیغام کے واسطے ہیں۔
(3)… اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانا اوریہ عقیدہ رکھنا کہ جو کتابیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں اور اپنے رسولوں کے پاس وحی کے ذریعے بھیجیں وہ بے شک و شبہ سب حق اور سچ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور قرآن کریم تَغیِیر، تبدیل اور تحریف سے محفوظ ہے اور مُحَکم ومُتَشابہ پر مشتمل ہے۔
(4)… رسولوں پر ایمان لانا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جنہیں اُس نے اپنے بندوں کی طرف بھیجا، تمام رسول اور نبی، اللہ تعالیٰ کی وحی کے امین ہیں ، گناہوں سے پاک اور معصوم ہیں ، ساری مخلوق سے افضل ہیں ، ان میں بعض حضرات بعض سے افضل ہیں البتہ نبی ہونے میں سب برابر ہیں اور اس بات میں ہم ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کریں گے۔ نیز ہم اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کو سنیں گے ، مانیں گے اور اس کی پیروی کریں گے۔ یاد رکھیں کہ ایمان مُفَصَّل کی بنیاد یہی آیت ِ مبارکہ ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 285 تفسیر