قرآن - 25:22 سورہ الفرقان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

22
يَوۡمَ يَرَوۡنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ لَا بُشۡرَىٰ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُجۡرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا

Transliteration: (Yawma yarawnal malaaa 'ikata laa bushraa Yawmaizin lil mujrimeena wa yaqooloona hijran mahjooraa)

ترجمہ: کنزالایمان - یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓىٕكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَىٕذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا(22) || جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے وہ دن مجرموں کی کوئی خوشی کا نہ ہوگا اور کہیں گے الٰہی ہم میں ان میں کوئی آڑ کردے رُکی ہوئی۔ ترجمہ: کنزالعرفان یاد کروجس دن لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے تواس دن مجرموں کے لئے کوئی خوشخبری نہ ہوگی اوروہ کہیں گے: (یا اللہ ! ہمارے درمیان) کوئی روکی ہوئی آڑ کردے۔ || یاد کروجس دن لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے تواس دن مجرموں کے لئے کوئی خوشخبری نہ ہوگی اوروہ کہیں گے: (یا اللہ ! ہمارے درمیان) کوئی روکی ہوئی آڑ کردے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 22 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓىٕكَةَ: یاد کروجس دن لوگ فرشتوں  کو دیکھیں  گے۔} یعنی لوگ اپنی موت کے وقت روح نکالنے والے فرشتوں  کو اِس حال میں  دیکھیں  گے یا قیامت کے دن عذاب دینے پر مامور فرشتوں  کو اس حال میں  دیکھیں  گے کہ وہ ان سے کہہ رہے ہوں  گے’’اس دن مجرموں  کیلئے کوئی خوشخبری نہ ہوگی۔( بیضاوی، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۲، ۴ / ۲۱۳، جلالین مع صاوی، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۲، ۴ / ۱۴۳۲، ملتقطاً)

            یاد رہے کہ اس آیت میں  مجرموں  سے مرادکفار ہیں ، مومنین کو قیامت کے دن جنت کی بشارت سنائی جائے گی،جیساکہ ارشادِ باری تعالٰی ہے:

’’یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‘‘( حدید:۱۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن تم مومن مردوں  اورایمان  والی عورتوں  کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں  جانب دوڑرہا ہے (فرمایا جائے گا کہ) آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں  ہیں  جن کے نیچے نہریں   بہتی ہیں  تم ان میں  ہمیشہ رہو، یہی بڑی کامیابی ہے۔

{وَ یَقُوْلُوْنَ: اوروہ کہیں  گے۔} ا س آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ قیامت کے دن کفار جب فرشتوں  کو دیکھیں  گے تو وہ فرشتوں  سے پناہ چاہتے ہوئے کہیں  گے:اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، ہمارے اور ان فرشتوں  کے درمیان کوئی روکی ہوئی آڑ کردے۔(روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۲، ۶ / ۲۰۱) دوسری تفسیر یہ ہے،حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے فرمایا: ’’فرشتے (ان کفار سے) کہیں  گے کہ مومن کے سوا کسی کے لئے جنت میں  داخل ہونا حلال نہیں ۔ (تو کافروں  اور جنت کے درمیان روکی ہوئی آڑ ہے۔)( خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳ / ۳۷۰) اسی لئے وہ دِن کفار کے لئے انتہائی حسرت و ندامت اور رنج وغم کا دن ہوگا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now