قرآن - 25:21 سورہ الفرقان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

21
۞وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ أَوۡ نَرَىٰ رَبَّنَاۗ لَقَدِ ٱسۡتَكۡبَرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ وَعَتَوۡ عُتُوّٗا كَبِيرٗا

Transliteration: (Wa qaalal lazeena laa yarjoona liqaaa'anaa law laaa unzila 'alainal malaaa'ikatu awnaraa Rabbanaa; laqadistakbaroo feee anfusihim wa 'ataw 'utuwwan kabeeraa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓىٕكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَاؕ-لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا(21) || اور بولے وہ لوگ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے ہم پر فرشتے کیوں نہ اُتارے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے بیشک اپنے جی میں بہت ہی اُونچی کھینچی اور بڑی سرکشی پر آئے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اورجو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے انہوں نے کہا: ہم پر فرشتے کیوں نہ اتارے گئے ؟ یا ہم اپنے رب کو کیوں نہیں دیکھتے؟ بیشک انہوں نے اپنے دلوں میں تکبر کیا ہے اور انہوں نے بہت بڑی سرکشی کی ہے۔ || اورجو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے انہوں نے کہا: ہم پر فرشتے کیوں نہ اتارے گئے ؟ یا ہم اپنے رب کو کیوں نہیں دیکھتے؟ بیشک انہوں نے اپنے دلوں میں تکبر کیا ہے اور انہوں نے بہت بڑی سرکشی کی ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 21 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا: اورجو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں  رکھتے انہوں  نے کہا۔} اس آیت سے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کا انکار کرنے والوں  کے مزید اعتراضات ذکر کر کے ا ن کا رد کیا گیا ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے ’’کفار جو کہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور حشر نشر کو نہیں  مانتے، اسی لئے وہ قیامت کے دن والی ہماری ملاقات کی امید نہیں  رکھتے، وہ کہتے ہیں  کہ ہمارے لئے رسول بنا کر یارسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت و رسالت کے گواہ بنا کر ہم پر فرشتے کیوں  نہ اتارے گئے ؟یا ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو کیوں  نہیں  دیکھتے جو ہمیں  خود بتا دے کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کے رسول ہیں  اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ بیشک انہوں  نے اپنے دلوں  میں  تکبر کیا اور اُن کا تکبر انتہا کو پہنچ گیا ہے اور انہوں  نے بہت بڑی سرکشی کی اور وہ سرکشی میں  حد سے گزر گئے ہیں  کہ معجزات کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی فرشتوں  کے اپنے اوپر اترنے اور اللہ تعالٰی کو دیکھنے کا سوال کر رہے ہیں۔(ابوسعود، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۱، ۴ / ۱۲۹، روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۱، ۶ / ۱۹۹-۲۰۰، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now