Transliteration: (Wa Yawma tashaqqaqus samaaa'u bilghamaami wa nuzzilal malaaa'ikatu tanzeela)
{وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ: اور جس دن آسمان بادلوں سمیت پھٹ جائے گا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’(جب قیامت قائم ہو گی تو اس دن) پہلے آسمانِ دنیا پھٹے گا اور وہاں کے رہنے والے فرشتے زمین پر اتریں گے اور ان کی تعداد زمین کے جن و اِنس سب سے زیادہ ہو گی، پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اوروہا ں کے رہنے والے فرشتے اتریں گے، وہ آسمانِ دنیا کے رہنے والوں سے اور جن واِنس سب سے زیادہ ہیں ، اسی طرح آسمان پھٹتے جائیں گے اور ہر آسمان والوں کی تعداد اپنے ماتحتوں سے زیادہ ہے یہاں تک کہ ساتواں آسمان پھٹے گا، پھر کرّوبین (یعنی فرشتوں کے سردار) اتریں گے، پھر عرش اٹھانے والے فرشتے اتریں گے۔( خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳ / ۳۷۰)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 25 تفسیر