قرآن - 25:27 سورہ الفرقان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

27
وَيَوۡمَ يَعَضُّ ٱلظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيۡهِ يَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي ٱتَّخَذۡتُ مَعَ ٱلرَّسُولِ سَبِيلٗا

Transliteration: (Wa Yawma ya'adduz zaalimu 'alaa yadaihi yaqoolu yaa laitanit takhaztu ma'ar Rasooli sabeelaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا(27) || اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا چبا لے گا کہ ہائے کسی طرح سے میں نے رسول کے ساتھ راہ لی ہوتی۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا ئے گا، کہے گا : اے کاش کہ میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔ || اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا ئے گا، کہے گا : اے کاش کہ میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 27 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ: اور جس دن ظالم اپنے ہاتھوں  پر کاٹے گا۔} ارشاد فرمایا کہ وہ وقت یاد کریں  جس دن ظالم حسرت و ندامت کی وجہ سے اپنے ہاتھوں  پر کاٹے گا اورکہے گا : اے کاش کہ میں  نے رسول کے ساتھ جنت و نجات کاراستہ اختیار کیا ہوتا، ان کی پیروی کیا کرتا اور ان کی ہدایت کو قبول کیا ہوتا۔

            یہ حال اگرچہ کفار کے لئے عام ہے مگر عقبہ بن ابی معیط سے اس کا خاص تعلق ہے۔ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ عقبہ بن ابی معیط اُبی بن خلف کا گہرا دوست تھا، حضورسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشاد فرمانے سے اُس نے لَا ٓاِلٰـہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کی شہادت دی اور اس کے بعد اُبی بن خلف کے زور ڈالنے سے پھر مُرتَد ہوگیا، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے قتل ہوجانے کی خبر دی، چنانچہ وہ بدر میں  مارا گیا۔ اس کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی کہ قیامت کے دن اس کو انتہا درجہ کی حسرت و ندامت ہوگی اوراس حسرت میں  وہ اپنے ہاتھوں  کو کاٹنے لگے گا۔( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۸۰۰، خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۳۷۱، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now