قرآن - 25:33 سورہ الفرقان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

33
وَلَا يَأۡتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَأَحۡسَنَ تَفۡسِيرًا

Transliteration: (Wa laa ya'toonaka bi masalin illaa ji'naaka bilhaqqi wa ahsana tafseeraa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاﭤ(33) || اور وہ کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور وہ آپ کے پاس کوئی بھی مثال لے آئیں ، ہم آپ کے پاس حق اور بہتر بیان لے آئیں گے۔ || اور وہ آپ کے پاس کوئی بھی مثال لے آئیں ، ہم آپ کے پاس حق اور بہتر بیان لے آئیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 33 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ: اور وہ آپ کے پاس کوئی مثال نہ لائیں  گے۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ مشرکین آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دین کے خلاف یا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پر جو بھی اعتراض قائم کریں  گے ہم ا س کا انتہائی نفیس جواب دیں  گے۔( صاوی، الفرقان، تحت الآیۃ: ۳۳، ۴ / ۱۴۳۶)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضورا قدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بارگاہِ الہٰی میں  وہ قُرب حاصل ہے کہ جب اعتراض حضور نبیٔ  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ہو تو ا س کا جواب اللہ تعالٰی دیتا ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now