Transliteration: (Wa laa ya'toonaka bi masalin illaa ji'naaka bilhaqqi wa ahsana tafseeraa)
{وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ: اور وہ آپ کے پاس کوئی مثال نہ لائیں گے۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ مشرکین آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دین کے خلاف یا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پر جو بھی اعتراض قائم کریں گے ہم ا س کا انتہائی نفیس جواب دیں گے۔( صاوی، الفرقان، تحت الآیۃ: ۳۳، ۴ / ۱۴۳۶)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضورا قدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بارگاہِ الہٰی میں وہ قُرب حاصل ہے کہ جب اعتراض حضور نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ہو تو ا س کا جواب اللہ تعالٰی دیتا ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 33 تفسیر