Transliteration: (Allazeena yuhsharoona 'alaa wujoohihim ilaa jahannama ulaaa'ika sharrun makaananw wa adallu sabeelaa (section 3))
{اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ: جن لوگوں کو ان کے چہروں کے بل ہانکا جائے گا۔} قیامت کے دن چہروں کے بل ہانکے جانے سے متعلق حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ آدمی روزِ قیامت تین طریقے پر اُٹھائے جائیں گے ایک گروہ سواریوں پر، ایک گروہ پیادہ پا اور ایک جماعت منہ کے بل گھسٹتی ہوئی۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ ارشاد فرمایا: ’’جس نے انہیں پاؤں پر چلایا ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ انہیں منہ کے بل چلائے۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ بنی اسرائیل، ۵ / ۹۶، الحدیث: ۳۱۵۳)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 34 تفسیر