قرآن - 25:34 سورہ الفرقان ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

34
ٱلَّذِينَ يُحۡشَرُونَ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ إِلَىٰ جَهَنَّمَ أُوْلَـٰٓئِكَ شَرّٞ مَّكَانٗا وَأَضَلُّ سَبِيلٗا

Transliteration: (Allazeena yuhsharoona 'alaa wujoohihim ilaa jahannama ulaaa'ika sharrun makaananw wa adallu sabeelaa (section 3))

ترجمہ: کنزالایمان - اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَۙ-اُولٰٓىٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا(34) || وہ جو جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے اپنے منہ کے بل ان کا ٹھکانا سب سے بُرا اور وہ سب سے گمراہ۔ ترجمہ: کنزالعرفان وہ جنہیں ان کے چہروں کے بل جہنم کی طرف ہانکا جائے گا ان کا ٹھکانہ سب سے بدتر اور وہ سب سے زیادہ گم راہ ہیں ۔ || وہ جنہیں ان کے چہروں کے بل جہنم کی طرف ہانکا جائے گا ان کا ٹھکانہ سب سے بدتر اور وہ سب سے زیادہ گم راہ ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 34 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ: جن لوگوں  کو ان کے چہروں  کے بل ہانکا جائے گا۔} قیامت کے دن چہروں  کے بل ہانکے جانے سے متعلق حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ آدمی روزِ قیامت تین طریقے پر اُٹھائے جائیں  گے ایک گروہ سواریوں  پر، ایک گروہ پیادہ پا اور ایک جماعت منہ کے بل گھسٹتی ہوئی۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ منہ کے بل کیسے چلیں  گے؟ ارشاد فرمایا: ’’جس نے انہیں  پاؤں  پر چلایا ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ انہیں  منہ کے بل چلائے۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ بنی اسرائیل، ۵ / ۹۶، الحدیث: ۳۱۵۳)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now