Transliteration: (Wa izaa qeela lahumus judoo lir Rahmaani qaaloo wa mar Rahmaanu 'a nasjudu limaa ta'murunaa wa zaadahum nufooraa (section 5) (make sajda))
{وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ: اور جب ان سے کہا جائے۔} یعنی جب رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مشرکین سے
فرمائیں کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو وہ کہتے ہیں : رحمٰن کیا ہے؟ کیا ہم
اسے سجدہ کرلیں جس کا تم ہمیں کہہ دو۔اس سے ان کا مقصد یہ
ہے کہ وہ رحمٰن کو جانتے نہیں اور عناد کی وجہ سے ان کا یہ کہنا باطل
ہے کیونکہ لغتِ عرب کوجاننے والا خوب جانتا ہے کہ رحمٰن کے معنی نہایت رحمت
والا ہیں اور یہ اللہ تعالٰی ہی کی صفت ہے۔ آیت کے آخر میں ارشاد
فرمایا کہ مشرکوں کوسجدہ کرنے کا حکم دینا اُن کے لئے اور زیادہ
ایمان سے دوری کا باعث ہوا۔( مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۰، ص۸۰۸)
نوٹ:یاد رہے کہ یہ آیت
آیاتِ سجدہ میں سے ہے، اسے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ کرنا لازم ہو
جاتا ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 60 تفسیر