Transliteration: (Tabaarakal lazee ja'ala fis samaaa'i buroojanw wa ja'ala feehaa siraajanw wa qamaran muneeraa)
{بُرُوْجًا: بُرج۔} اس سے پہلی آیت میں کفار کے بارے میں بیان کیاگیا کہ سجدے کے حکم نے کافروں کی نفرت اور ایمان سے دوری میں اضافہ کیا اور اس آیت سے ان چیزوں کو بیان کیا جا رہا ہے جن میں اگر کافر غور و فکر کریں تو وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالٰی کی عبادت کرنا اور اسے سجدہ کرنا ضروری ہے۔چنانچہ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ بڑی برکت والا ہے جس نے آسمان میں برج بنائے اور ان برجوں میں سورج اور روشن کرنے والا چاند بنایا۔( تفسیرکبیر، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۱، ۸ / ۴۷۹)
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ بروج سے سات سَیّارہ ستاروں کی منزلیں مراد ہیں اور ان برجوں کی تعدادبارہ ہے۔ (1)حَمْل۔(2)ثَوْر۔(3) جَوْزَاء۔(4) سَرَطَانْ۔(5) اَسَد۔(6) سُنْبُلَہ۔ (7) میزان۔(8) عَقْرَب۔(9) قَوس۔(10) جَدْی۔ (11) دَلْو۔ (12) حُوْت۔ (خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۱، ۳ / ۳۷۸) مِرِّیخْ کے برج حَمْل اور عَقْرَب ہیں ،زُہْرَہ کے ثَوْر اور میزان،عُطَارِدْ کے جَوْزَاء اور سُنْبُلَہ، چاند کا سَرَطَانْ، سورج کا اسد، مشتری کے قَوس اور حُوت اور زُحَل کے جَدْی اور دَلْوہیں ۔( جلالین، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۱، ص۳۰۷-۳۰۸)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الفرقان آیت 61 تفسیر