قرآن - 57:6 سورہ الحديد ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

6
يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِۚ وَهُوَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

Transliteration: (Yoolijul laila fin nahaari wa yoolijun nahaara fil lail; wa Huwa 'Aleemum bizaatis sudoor)

ترجمہ: کنزالایمان - یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِؕ-وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(6) || رات کو دن کے حصّے میں لاتا ہے اور دن کو رات کے حصّے میں لاتا ہے اور وہ دلوں کی جانتا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔ || رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحديد آیت 6 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ: رات کو دن میں  داخل کرتا ہے۔}اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ (کسی موسم میں ) رات کی مقدار کم کر کے اور دن کی مقدار بڑھا کر رات کے کچھ حصے کو دن میں  داخل کرتا ہے اور(کسی موسم میں ) دن کی مقدار کم کر کے اور رات کی مقدار بڑھا کر دن کے کچھ حصے کو رات میں  داخل کرتا ہے اور وہ دِل کے عقیدے اور قلبی اَسرار سب کو جانتا ہے۔( جلالین، الحدید، تحت الآیۃ: ۶، ص۴۴۹، ملخصاً)

          نوٹ:رات اور دن میں  کمی زیادتی کا بیان اس سے پہلے سورہ اٰلِ عمران،سورہ حج، سورۂ لقمان اور سورۂ فاطر میں گزر چکا ہے،یہاں  ایک بار پھر ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں  غورو فکر کریں  اوراس کی وحدانیَّت پر ایمان لائیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now