Transliteration: (Huwal lazee yunazzilu 'alaa 'abdiheee Aayaatim baiyinaatil liyukhrijakum minaz zulumaati ilan noor; wa innal laaha bikum la Ra'oofur Raheem)
{هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ: وہی ہے جو اپنے بندہ پر روشن آیتیں اتارتا ہے۔}ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہی ہے جو حضرت جبریل کے واسطے سے اپنے بندے محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر حکم اور مُمانَعت، حلال اور حرام کے اَحکام پر مشتمل روشن آیتیں اتارتا ہے تاکہ اے میرے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت! یہ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہیں کفر ،شرک،شک ،جہالت اور مخالفت کے اندھیروں سے ایمان، توحید ، یقین، علم اور مُوافقت کے نورکی طرف لے جائیں اور بیشک اللہ تعالیٰ تم پر ضرور مہربان اور رحمت والاہے کہ اس نے تمہاری طرف اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھیجا اور ان پر قرآنِ پاک کی آیات نازل فرمائیں ۔(روح البیان، الحدید، تحت الآیۃ: ۹، ۹ / ۳۵۵)
یہی مضمون ایک دوسری آیت میں بیان ہوا ہے
’’ الٓرٰ- كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِ جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ﳔ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ‘‘(ابراہیم:۱)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: الٓرٰ، یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے اجالے کی طرف ،اس (اللہ) کے راستے کی طرف نکالو جو عزت والا، سب خوبیوں والا ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحديد آیت 9 تفسیر