قرآن - 69:17 سورہ الحاقة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

17
وَٱلۡمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرۡجَآئِهَاۚ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ ثَمَٰنِيَةٞ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىٕذٍ وَّاهِیَةٌ(16)وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآىٕهَاؕ-وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَىٕذٍ ثَمٰنِیَةٌﭤ(17) || اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن اس کا پتلا حال ہوگا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن وہ بہت کمزورہوگا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر (کھڑے) ہوں گے اور اس دن آٹھ فرشتے تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائیں گے۔ || اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن وہ بہت کمزورہوگا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر (کھڑے) ہوں گے اور اس دن آٹھ فرشتے تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائیں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحاقة آیت 17 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ: اور آسمان پھٹ جائے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کی ہَولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا تو ابھی اس قدر مضبوط اور مُستحکَم ہونے کے باوجود اس دن آسمان انتہائی ضعیف اور کمزور ہو گا اور جن فرشتوں  کا مَسکَن آسمان ہے وہ اس کے پھٹنے کے بعد اس کے کناروں  پر کھڑے ہوجائیں  گے، پھر اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے اُتر کر زمین کا اِحاطہ کرلیں  گے اور اس دن آٹھ فرشتے تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کا عرش اپنے سروں  کے اوپر اٹھائیں  گے۔حضرت ابنِ اسحاق رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ،ہمیں  یہ حدیث پہنچی ہے کہ عرش اٹھانے والے فرشتے آج کل چار ہیں  اور قیامت کے دن ان کی تائید کیلئے چار کا اور اضافہ کیا جائے گا تو اس طرح آٹھ ہوجائیں  گے۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ آٹھ فرشتوں  سے فرشتوں  کی آٹھ صفیں  مراد ہیں  جن کی تعداد اللّٰہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔( مدارک، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ص۱۲۷۴، تفسیر طبری، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۱۷، ۱۲ / ۲۱۶، خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۱۶-۱۷، ۴ / ۳۰۴، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now