Transliteration: (Laqaaloo innamaa sukkirat absaarunaa bal nahnu qawmum mashooroon)
{وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ:اور اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیتے ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ کا عناد اس درجہ پر پہنچ گیا ہے کہ اگر ان کے لئے آسمان میں دروازہ کھول دیا جائے اور انہیں اس میں چڑھنا مُیَسّر ہو اور دن میں اس سے گزریں اور آنکھوں سے دیکھیں جب بھی نہ مانیں گے اور یہ کہہ دیں گے کہ ہماری نظر بندی کی گئی اور ہم پر جادو ہوا تو جب خود اپنے معائنہ سے انہیں یقین حاصل نہ ہوا تو ملائکہ کے آنے اور گواہی دینے سے جس کو یہ طلب کرتے ہیں انہیں کیا فائدہ ہوگا۔ (مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۵۷۹، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحجر آیت 15 تفسیر