Transliteration: (Qaala abashshartumoonee 'alaaa am massaniyal kibaru fabima tubashshiroon)
{قَالَ:فرمایا۔} یعنی جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بیٹے کی بشارت دی تو وہ اپنے اور زوجہ کے بڑھاپے کی وجہ سے حیران ہوئے اور فرشتوں سے فرمایا ’’اتنی بڑی عمر میں اولاد ہونا عجیب وغریب ہے ،ہمارے ہاں کس طرح اولاد ہوگی؟ کیا ہمیں پھر جوان کیا جائے گا یا اِسی حالت میں بیٹا عطا فرمایا جائے گا ؟ (خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳ / ۱۰۴، تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۴، ۷ / ۱۵۱، ملتقطاً)
تنبیہ: حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ تعجب اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت پر نہیں بلکہ عادت کے برخلاف کام ہونے پر تھا کہ عموماً بڑھاپے میں کسی کے ہاں اولاد نہیں ہوتی۔ (صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳ / ۱۰۴۶، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحجر آیت 54 تفسیر