Transliteration: (Qul atu'allimoonal laaha bideenikum wallaahu ya'lamu maa fis samaawaati wa maa fil ard; wallaahu bikulli shai'in 'Aleem)
}قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ: تم فرماؤ: کیا تم اللہ کو اپنا دین بتاتے ہو۔{ شانِ نزول: جب ا س سے پہلے کی دونوں آیتیں نازل ہوئیں تو
دیہاتیوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ ہم مخلص مومن ہیں ، اس پر یہ آیت
نازل ہوئی اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خطاب فرمایا گیا:اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں : کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی خبر دے رہے ہوحالانکہ جو کچھ
آسمانوں اور زمینوں میں موجود ہے اسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے،مومن کا ایمان بھی اسے معلوم ہے اور منافق کا نفاق بھی اس کے علم میں ہے،تمہارے
بتانے اور خبر دینے کی حاجت نہیں ۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴ / ۱۷۴، مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۱۱۵۸، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحجرات آیت 16 تفسیر