Transliteration: (Innal laahas tafaaa Aadama wa Noohanw wa Aala Ibraaheema wa Aala Imraana 'alal 'aalameen)
{اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ: بیشک اللہ نے آدم کو چن لیا۔} یہودیوں نے کہا تھا کہ ہم حضرت ابراہیم ،حضرت اسحٰق اور حضرت یعقوب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے ہیں اور انہیں کے دین پر ہیں ،اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتادیا گیا کہ’’ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو اسلام کے ساتھ برگزیدہ کیا تھا اور اے یہودیو! تم اسلام پر نہیں ہو تو تمہارا یہ دعویٰ غلط ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ، چنے ہوئے، منتخب بندوں کی عظمت و شان کو بیان کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، جیسے یہاں پر برگزیدہ بندوں کا تذکرہ ہوا اور اس کے آگے کی آیتوں میں مُقربینِ بارگاہِ الٰہی کا تفصیل سے تذکرہ ہوا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 33 تفسیر