Transliteration: (Qul yaa Ahlal Kitaabi ta'aalaw ilaa Kalimatin sawaaa'im bainanaa wa bainakum allaa na'buda illal laaha wa laa nushrika bihee shai'anw wa laa yattakhiza ba'dunaa ba'dan arbaabam min doonil laah; fa in tawallaw faqoolush hadoo bi annaa muslimoon)
{قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ: تم فرماؤ، اے اہلِ کتاب!۔} اہلِ کتاب کو تین چیزوں کی طرف دعوت دی پہلی یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور یہ وہ چیز ہے جس میں قرآن ،توریت اور انجیل سب متفق ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ دوسری یہ کہ ہم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرائیں نہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اور نہ حضرت عزیر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نہ اور کسی کو اور یہ بات یقینا پہلی بات ماننے کے مُترادِف ہے۔ تیسری بات یہ کہ ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا رب نہ بنائے جیسے یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء اور پادریوں کو بنا رکھا تھا کہ ان کے احکام کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے برابر سمجھتے۔
اس آیت میں اختلاف ختم کرنے کا ایک عمدہ طریقہ بیان کیا ہے کہ جو مشترکہ اور متفقہ چیزیں ہیں انہیں طے کرلیا جائے تاکہ اختلافی امور ممتاز ہوجائیں اور ان کی تعداد کم ہو جائے اور بحث صرف انہی پر منحصر رہے۔ ورنہ ہوتا یہ ہے کہ جب بحث کی جاتی ہے تو کبھی اختلافی موضوع زیرِ بحث آتا ہے اور کبھی اتفاقی پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 64 تفسیر