Transliteration: (Haaa antum haaa'ulaaa'i haajajtum feemaa lakum bihee 'ilmun falima tuhaaajjoonaa feemaa laisa lakum bihee 'ilm; wallaahu ya'lamu wa antum laa ta'lamoon)
{هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ: سن لو: تم وہی لوگ ہو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ تم ہی ہو کہ تمہاری کتابوں میں نبیِّ آخر الزّمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ظہور اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت کا بیان موجود ہے اس کے باوجود تم حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان نہ لائے اور تم نے اس میں جھگڑا کیا تو جب معلوم باتوں میں تم جھگڑا کرتے ہو تو ان باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں علم ہی نہیں ، یعنی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہودی یا نصرانی کہتے ہوحالانکہ تمہیں اس کا علم ہی نہیں ہے اورحقیقت حال یہ ہے کہ کسی یہودی یا نصرانی یا مشرک کا اپنے آپ کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پیروکار کہنا درست نہیں کیونکہ وہ نہ یہودی تھے، نہ عیسائی اور نہ مشرک بلکہ ہر باطل سے جدا، خالصتاً اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار مسلمان بندے تھے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ آل عمران آیت 66 تفسیر