قرآن - 84:6 سورہ الإنشقاق ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

6
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡإِنسَٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدۡحٗا فَمُلَٰقِيهِ

Transliteration: (Yaaa ayyuhal insaanu innaka kaadihun ilaa Rabbika kad han famulaaqeeh)

ترجمہ: کنزالایمان - یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِ(6) || اے آدمی بیشک تجھے اپنے رب کی طرف یقینی دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اے انسان!بیشک تو اپنے رب کی طرف دوڑنے والا ہے پھر اس سے ملنے والا ہے۔ || اے انسان!بیشک تو اپنے رب کی طرف دوڑنے والا ہے پھر اس سے ملنے والا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإنشقاق آیت 6 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ: اے انسان!} اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے انسان !تو اپنی موت آنے تک اچھے یا برے عمل کرنے میں  محنت و مشقت کر تارہتاہے،پھر مرنے کے بعد تجھے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  (اپنے اعمال کا حساب دینے کے لئے) ضرور حاضر ہونا ہے اور تو نے دنیا میں  جیسے عمل کئے ہوں  گے انہی کے مطابق تمہیں  اس کی بارگاہ سے جزا ملے گی۔

اللّٰہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے عمل کریں  اور ناراض کرنے والے اعمال سے بچیں :

            ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اس آیت میں  غور کرے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اورموت آنے سے پہلے پہلے ایسے عمل کر لے جن کے ذریعے وہ اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی سے نجات پا جائے اور اسے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے اور ایسے عمل کر نے سے خود کو بچا لے جن کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاکت میں  پڑجائے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو ا س میں  اسی کا بھلا اور فائدہ ہے ،اور نہیں  کرے گا تو سراسر نقصان بھی اسی کا ہے جیساکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’ مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗۚ-وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَ‘‘(روم:۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پرہے اور جو اچھا کام کریں  وہ اپنے ہی کے لئے تیاری کر رہے ہیں ۔

            اور ارشاد فرماتا ہے : ’’وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ‘‘(عنکبوت:۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کوشش کرے تو اپنے ہی فائدےکے لئے کوشش کرتا ہے،بیشک اللّٰہ سارے جہان سےبے پرواہ ہے۔

            اورجنہوں  نے اللّٰہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے عمل کئے ان کے بارے میں  ارشاد فرماتا ہے : ’’فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ(۲۷) ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ ‘‘(سورہ محمد:۲۷،۲۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ان کاکیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کے منہ اور ان کی پیٹھوں  پر ضربیں  مارتے ہوئے ان کی روح  قبض کریں  گے۔ یہ اس لیے ہے کہ انہوں  نے اللّٰہ کو ناراض کرنے والی بات کی پیروی کی اور انہوں  نے اللّٰہ کی خوشنودی کو پسند نہ کیا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کردئیے۔

            اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  اپنی رضا والے کام کرنے کی اور ناراض کر دینے والے کاموں  سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now