Transliteration: (Wa annal lazeena laa yu'minoona bil aakhirati a'tadnaa lahum 'azaaban aleemaa (section 1))
{اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ: بیشک یہ قرآن۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک کی تین خوبیاں بیان فرمائی ہیں (1) قرآن سب سے سیدھا راستہ دکھاتا ہے اوروہ راستہ اللّٰہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا اور اُن کی اطاعت کرنا ہے۔ (یہی راستہ سیدھا جنت تک اور خدا تک پہنچانے والا اور اللّٰہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندوں یعنی ولیوں اور ان نیک بندوں کا ہے جن کی پیروی کا قرآنِ پاک میں حکم دیا گیا ہے) ۔ (2) نیک اعمال کرنے والے مومنوں کو جنت کی بشارت دیتا ہے۔(3) آخرت کے منکرین کو درناک عذاب کی خبر دیتا ہے۔( تفسیرکبیر، الاسراء، تحت الآیۃ: ۹-۱۰، ۷ / ۳۰۳-۳۰۴، مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۹-۱۰، ص۶۱۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 10 تفسیر