قرآن - 17:46 سورہ الإسراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

46
وَجَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۚ وَإِذَا ذَكَرۡتَ رَبَّكَ فِي ٱلۡقُرۡءَانِ وَحۡدَهُۥ وَلَّوۡاْ عَلَىٰٓ أَدۡبَٰرِهِمۡ نُفُورٗا

Transliteration: (Wa ja'alnaa 'alaa quloo bihim akinnatan any yafqahoohu wa feee aazaanihim waqraa; wa izaa zakarta Rabbaka fil Quraani wahdahoo wallaw 'alaaa adbaarihim nufooraa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًاؕ-وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا(46)نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا(47) || اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دئیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے۔ ہم خوب جانتے ہیں جس لیے وہ سنتے ہیں جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں اور جب آپس میں مشورہ کرتے ہیں جبکہ ظالم کہتے ہیں تم پیچھے نہیں چلے مگر ایک ایسے مرد کے جس پر جادو ہوا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دئیے ہیں تا کہ اس قران کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ڈال دیا اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ کافرنفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں ۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ جب وہ آپ کی طرف کان لگا کر سنتے ہیں تو وہ اسے کیوں سنتے ہیں اور جب وہ آپس میں مشورہ کرتے ہیں جب ظالم کہتے ہیں : تم تو صرف ایک ایسے مرد کی پیروی کررہے ہو جس پر جادو ہوا ہے۔ || اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دئیے ہیں تا کہ اس قران کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ڈال دیا اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ کافرنفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں ۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ جب وہ آپ کی طرف کان لگا کر سنتے ہیں تو وہ اسے کیوں سنتے ہیں اور جب وہ آپس میں مشورہ کرتے ہیں جب ظالم کہتے ہیں : تم تو صرف ایک ایسے مرد کی پیروی کررہے ہو جس پر جادو ہوا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 46 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً: اور ہم نے ان کے دلوں  پر غلاف ڈال دئیے ہیں ۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کفار کی ضد و اَنانِیَّت کے باعث اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دلوں  پر پردے ڈال دئیے ہیں  جس سے وہ قرآن کریم کو درست طور پر سمجھ نہیں  سکتے اور ان کے کانوں  میں  بھی بوجھ ڈال دئیے جس کے باعث وہ قرآن شریف سنتے نہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی صحیح سمجھ ایمان اور تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے، اس کے بغیر بسا اوقات ذہن الٹا کام کرتا ہے جیسا آجکل دیکھا جا رہا ہے۔ ہر کتا ب روشنی میں  پڑھی جاتی ہے، قرآن کو پڑھنے، سمجھنے کیلئے روشنی تقویٰ ہے۔ لہٰذا فہمِ قرآن کیلئے اس روشنی کو حاصل کرنا چاہیے۔

{نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖ:ہم خوب جانتے ہیں  کہ وہ اسے کیوں  سنتے ہیں ۔} یعنی کفار سنتے بھی ہیں  تو تمسخر اور تکذیب کے لئے، یہ ان کا ایک جرم ہے اور ان کا دوسرا جرم یہ ہے کہ ان میں  سے کوئی آپ کو مجنون  کہتا ہے اور کوئی جادوگر اور کوئی کاہن اور کوئی شاعر۔(خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳ / ۱۷۶-۱۷۷، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now