Transliteration: (Wa iz qulnaa lil malaaa'ikatis judoo li Aadama fasajadooo illaaa Ibleesa qaala 'a-asjudu liman khalaqta teena)
{وَ اِذْ قُلْنَا:اور جب ہم نے کہا۔} یہاں سے ایک مرتبہ پھر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کی قوم اور ان کے اہلِ زمانہ کی طرف سے پہنچنے والی مشقتوں کا ذکر فرمایا جبکہ اس آیت سے یہ بیان فرمایا کہ سابقہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ ان کے اہلِ زمانہ کی ایسی ہی رَوِش رہی ہے، ان میں سے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھ لیں کہ جو اللّٰہ تعالیٰ کے سب سے پہلے مقرب بندے ہیں ،انہیں ابلیس کی طرف سے کیسی شدید مشقت کا سامنا ہوا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قوم نے ان سے صرف تکبر اور حسد کی وجہ سے جھگڑا کیا اور ان کے خلاف طرح طرح سے باطل شبہات پیش کئے، تکبر کی بنا پر یہ لوگ ایمان سے محروم رہے اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نبوت اور بلند درجہ ملنے پر ان سے حسد کیا۔ اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ تکبر اور حسد نے ہی ابلیس کو ایمان سے نکال کر کفر میں داخل کر دیا ، مخلوق میں تکبر اور حسد بڑا پرانا مرض ہے۔( تفسیرکبیر، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۱، ۷ / ۳۶۵) آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا لیکن شیطان نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے حسد اور اپنی ذات کے تکبر کی وجہ سے یہ جواب دیا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے حالانکہ میری پیدائش آگ سے ہے اور میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے افضل ہوں ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 61 تفسیر