Transliteration: (Afa amintum any yakhsifa bikum jaanibal barri aw yursila 'alaikum haasiban summa laa tajidoo lakum wakeelaa)
{اَفَاَمِنْتُمْ:کیا تم بے خوف ہوگئے۔} یعنی اے لوگو! کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ تمہارے دریا سے نجات پانے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ تمہیں خشکی کے کنارے سمیت زمین میں دھنسا دے جیسا کہ قارون کو زمین میں دھنسا دیا تھا۔ آیت کا مقصد یہ ہے کہ خشکی وتری سب اللّٰہ تعالیٰ کے تحت ِقدرت ہیں جیسا وہ سمندر میں غرق کرنے اور بچانے دونوں پر قادر ہے ایسا ہی خشکی میں بھی زمین کے اندر دھنسا دینے اور محفوظ رکھنے دونوں پر قادر ہے۔ خشکی ہو یا تری ہر کہیں بندہ اس کی رحمت کا محتاج ہے۔ وہ تمہیں زمین میں دھنسانے پر بھی قادر ہے اور یہ بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر پتھروں کی بارش برسا دے جیسے قومِ لوط پر بھیجی تھی اورپھر تم اپنے لئے کوئی حمایتی نہ پاؤ جو تمہیں بچاسکے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۸، ۵ / ۱۸۳، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۸، ۳ / ۱۸۲، ملتقطاً) الغرض ہر حال میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنا چاہیے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 68 تفسیر