Transliteration: (Am amintum any yu'eedakum feehi taaratan ukhraa fa yursila 'alaikum qaasifam minar reehi fa yugh riqakum bimaa kafartum summa laa tajidoo lakum 'alainaa bihee tabee'aa)
{اَمْ اَمِنْتُمْ:یا تم بے خوف ہوگئے۔} مزید فرمایا کہ سمندر کی مشکلات سے نجات پانے کے بعد تم دوبارہ شرک میں پڑجاتے ہو تو کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں دوبارہ دریا میں لے جائے پھر تم پر جہاز توڑنے والی آندھی بھیج دے تو وہ تمہیں تمہارے کفر کے سبب غرق کردے پھر تم اپنے لئے کوئی ایسا نہ پاؤ جو ہم سے کوئی مطالبہ کرسکے اور ہم سے دریافت کرسکے کہ ہم نے ایسا کیوں کیا کیونکہ ہم( قادر ومختار ہیں ،) جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ، ہمارے کام میں کوئی دخل دینے والا اور دم مارنے والا نہیں ۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۹، ۵ / ۱۸۳، مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۹، ص۶۳۱، ملتقطاً) الغرض کسی بھی حال میں کوئی بھی فرد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے بے خوف نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کی قدرت نے آدمی کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإسراء آیت 69 تفسیر