Transliteration: (Illaa balaagham minal laahi wa risaalaatih; wa many ya'sil laaha wa rasoolahoo fa inna lahoo naara jahannama khaalideena feehaaa 'abada)
{اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ: مگر اللّٰہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات پہنچانا ہے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مشرکین سے فرمادیں کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں البتہ میرا کام یہ ہے کہ میں تمہیں ان چیزوں کی تبلیغ کردوں جن کی تبلیغ کرنے کا مجھے اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تم تک اللّٰہ تعالیٰ کے وہ پیغامات پہنچا دو ں جو ا س نے مجھے دے کر تمہاری طرف بھیجا ہے اور جہاں تک ہدایت اور گمراہی کا تعلق ہے تو اس کا اختیار مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں بلکہ صرف اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے ، وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کرے اور جو توحید کے معاملے میں اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی یوں نافرمانی کرے گا کہ انہوں نے جس چیز کا حکم دیااور جس چیز کی طرف بلایا اس پر عمل کرنے کی بجائے شرک کرنے لگے تو بیشک ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔( تفسیرطبری،الجن،تحت الآیۃ:۲۳، ۱۲ / ۲۷۴-۲۷۵، روح البیان، الجن، تحت الآیۃ: ۲۳، ۱۰ / ۱۹۹-۲۰۰، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الجن آیت 23 تفسیر